ٹرمپ نے ’مکہ معاہدے‘ کی حمایت کیوں کی؟ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا نیا دفاعی اتحاد
ٹرمپ نے مکہ معاہدے کی حمایت کیوں کی؟ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا نیا دفاعی اتحاد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے نے خطے کی سیاست اور سلامتی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کا خیرمقدم کیے جانے کے بعد یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ امریکہ خطے میں بدلتے ہوئے دفاعی تعلقات کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے اور مستقبل میں اس کا کردار کیا ہوگا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست کو ایک سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ مکہ معاہدے میں کیا طے پایا؟ اس معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے۔ اس میں فوجی رابطوں کے ساتھ ساتھ دفاعی منصوبہ بندی اور دفاعی صنعت میں تعاون بھی شامل ہے۔ ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق تینوں ممالک...