دنیا کا پہلا سانپ کا کینسر علاج پاکستان کے کینسر بحران کو اجاگر کرتا ہے
دنیا کا پہلا سانپ کا کینسر کا علاج — 15 فٹ لمبے اژدہے کا کامیاب علاج پاکستان کے کینسر بحران کے ساتھ ایک اہم موازنہ
برطانیہ کے چیسٹر چڑیا گھر میں 23 سالہ ریٹیکیولیٹڈ اژدہے کو ایک جدید کینسر کا علاج دیا گیا ہے جس نے ویٹرنری میڈیسن میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ یہ علاج عام طور پر انسانی طب میں استعمال ہونے والی جدید تکنیک سے حاصل کیا گیا۔
اس سانپ کا نام جوڈی فوسٹر رکھا گیا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 15 فٹ (4.5 میٹر) اور وزن تقریباً 50 کلوگرام ہے۔ چڑیا گھر کے عملے کو اس وقت تشویش ہوئی جب اس نے کم کھانا شروع کیا اور معمول سے زیادہ وقت غیر فعال رہنے لگی۔ طبی معائنے میں اس کے جبڑے میں خطرناک فائبروسارکوما کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔
کینسر کا ابتدائی طور پر سرجری کے ذریعے علاج کیا گیا، لیکن بعد میں رسولی دوبارہ ظاہر ہوگئی اور اس نے سانپ کی جبڑے کی ہڈی کو متاثر کرنا شروع کردیا، جس کے باعث اس کے لیے کھانا کھانا مشکل ہوتا گیا۔
انسانی کینسر کے علاج کو سانپ کے لیے استعمال کیا گیا
چیسٹر چڑیا گھر کے ویٹرنری ماہرین نے یونیورسٹی آف لیورپول کے کینسر ماہرین کے ساتھ مل کر جوڈی کے لیے الیکٹرو کیموتھراپی نامی تکنیک کو استعمال کیا۔
الیکٹرو کیموتھراپی میں کیموتھراپی کی دوا، جیسے بلیومائسین، کو مخصوص برقی لہروں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ برقی لہریں عارضی طور پر کینسر کے خلیوں کی نفوذ پذیری بڑھا دیتی ہیں، جس سے دوا ان خلیوں تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ کر انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
جوڈی کے علاج کے دوران طبی ٹیم نے رسولی اور متاثرہ جبڑے کی ہڈی کے ایک حصے کو نکالا، جس کے بعد علاج کا عمل مکمل کیا گیا۔
سانپ کے بڑے سائز کی وجہ سے آپریشن میں غیر معمولی انتظامات کرنا پڑے۔ آپریشن کے لیے دو میزوں کو ملا کر ایک بڑا پلیٹ فارم بنایا گیا، جبکہ علاج کے دوران سانپ کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے گرم کمبل اور گرم ہوا استعمال کی گئی۔
آپریشن تقریباً 90 منٹ تک جاری رہا۔
جوڈی فوسٹر کینسر سے صحت یاب ہوگئی
علاج بظاہر کامیاب ثابت ہوا۔
آپریشن کے کئی ماہ بعد جوڈی کے جسم میں کینسر کی کوئی علامت نہیں ملی اور وہ دوبارہ معمول کی سرگرمیوں میں واپس آگئی۔ وہ معمول کے مطابق خوراک کھانے، اپنے حصے میں حرکت کرنے اور ایک صحت مند ریٹی کیولیٹڈ اژدہے جیسا رویہ اختیار کرنے لگی۔
حالیہ طبی معائنے میں بھی کینسر کی واپسی کے کوئی آثار نہیں ملے۔
ویٹرنری ماہرین کے مطابق یہ سانپ میں الیکٹرو کیموتھراپی کے استعمال کا پہلا معلوم کیس ہے۔ طبی ٹیم اس علاج کی تفصیلات شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ یہ تجربہ مستقبل میں ویٹرنری تحقیق کے لیے مفید ثابت ہوسکے۔
یہ کیس چڑیا گھر سے آگے کیوں اہم ہے؟
یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ انسانی کینسر کے علاج سے منسلک ایک تکنیک کو ایک رینگنے والے جانور کے لیے استعمال کیا گیا۔
کینسر صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ جانوروں میں بھی رسولیاں اور کینسر پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن رینگنے والے جانوروں میں کینسر کا علاج خاص طور پر مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی جسمانی ساخت، میٹابولزم اور ادویات پر ردعمل انسانوں اور ممالیہ جانوروں سے مختلف ہوتا ہے۔
جوڈی کا کامیاب علاج مستقبل میں ویٹرنری میڈیسن کے لیے مفید معلومات فراہم کرسکتا ہے، خاص طور پر سانپوں اور دیگر غیر معمولی جانوروں میں کینسر کے علاج کے حوالے سے۔
لیکن پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واقعہ ایک بہت بڑے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے: کینسر کا علاج عام خاندانوں کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان کینسر کے بڑے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے
پاکستان میں کینسر کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ GLOBOCAN 2022 کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں 2022 کے دوران تقریباً 185,748 نئے کینسر کیسز اور 118,631 کینسر سے متعلق اموات ریکارڈ کی گئیں۔
اس کا مطلب ہے کہ کینسر پاکستان میں صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں ہر سال لاکھوں خاندان تشخیص، علاج اور اپنے پیاروں کی موت کے اثرات سے براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر نئے کیسز کے لحاظ سے ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ ہونٹ اور منہ، پھیپھڑوں، بڑی آنت اور دیگر اعضاء کے کینسر بھی ملک کے مجموعی کینسر کے بوجھ میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔
مسئلہ صرف کیسز کی تعداد نہیں ہے۔ علاج کی قیمت اور دستیابی بھی اس بات کا فیصلہ کرسکتی ہے کہ مریض ڈاکٹر کی تجویز کردہ مکمل طبی نگہداشت حاصل کرپاتا ہے یا نہیں۔
جب کینسر کا علاج مالی جنگ بن جائے
کینسر کے علاج میں سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، تشخیصی ٹیسٹ، ادویات، ہسپتال کے دورے اور بار بار طبی معائنوں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے یہ اخراجات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔
پاکستان میں ہونے والی تحقیق نے کینسر کے مریضوں میں شدید مالی مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ کچھ خاندان علاج جاری رکھنے کے لیے قرض لیتے ہیں، اپنی جائیداد یا اثاثے فروخت کرتے ہیں، گھریلو اخراجات کم کرتے ہیں یا رشتہ داروں اور فلاحی اداروں سے مدد حاصل کرتے ہیں۔
مالی مشکلات علاج میں تاخیر یا اس کے درمیان میں رک جانے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں کینسر سے ہونے والی ہر موت مہنگے علاج کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کینسر کے نتائج کئی عوامل پر منحصر ہوتے ہیں، جن میں کینسر کی قسم، تشخیص کے وقت بیماری کا مرحلہ، ماہرین کی دستیابی، علاج کی سہولیات اور مریض کی مجموعی صحت شامل ہیں۔
تاہم علاج کی استطاعت مجموعی کینسر کیئر کے مسئلے کا ایک اہم حصہ ضرور ہے۔
ایک ایسا ملک جس کی معاشی کہانی کبھی مختلف تھی
پاکستان کی موجودہ مشکلات اس کی اپنی ترقی کی تاریخ کے ساتھ ایک دلچسپ موازنہ بھی پیش کرتی ہیں۔
1960 کی دہائی میں پاکستان کو ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی ترقی پذیر معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ملک پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے نافذ کر رہا تھا اور اس کے معاشی منصوبہ بندی کے تجربے کا بین الاقوامی سطح پر مطالعہ کیا جاتا تھا۔
اسی دور میں جنوبی کوریا بھی پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں، صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلی کے ذریعے اپنی سمت تبدیل کر رہا تھا۔
یہ عام دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا نے براہ راست پاکستان کا ترقیاتی منصوبہ نقل کیا تھا۔ تاہم یہ دعویٰ اتنا سادہ نہیں جتنا اکثر پیش کیا جاتا ہے، اور محققین نے اس بات پر سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا اس سادہ نقل کے دعوے کے لیے مضبوط دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
البتہ یہ واضح ہے کہ 1960 کی دہائی کے بعد پاکستان اور جنوبی کوریا نے بہت مختلف ترقیاتی راستے اختیار کیے۔
جنوبی کوریا نے بالآخر ایک مضبوط صنعتی، ٹیکنالوجی اور صحت کا نظام قائم کیا، جبکہ پاکستان معاشی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوریوں، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور محدود عوامی وسائل جیسے مسائل سے دوچار رہا۔
اصل سوال ترجیحات کا ہے
برطانیہ میں ایک سانپ کے لیے انتہائی جدید کینسر کے علاج اور پاکستان میں کینسر کے مریضوں کو درپیش مالی مشکلات کے درمیان موازنہ جذباتی طور پر بہت طاقتور ہوسکتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جانور کا علاج غلط ہے۔
ویٹرنری تحقیق سائنسی علم میں اضافہ کرسکتی ہے اور کسی جانور کو جدید طبی طریقے سے بچانا انسانوں کی دیکھ بھال کے خلاف نہیں ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں جدید طبی علاج اب بھی اتنے لوگوں کی مالی استطاعت سے باہر کیوں ہے۔
کینسر کے مریض کو علاج جاری رکھنے اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔
صحت کا ایک مضبوط نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں ابتدائی تشخیص آسان ہو، ضروری ادویات سستی ہوں اور ہر مالی حیثیت رکھنے والے مریض کو کینسر کے ماہر علاج تک رسائی حاصل ہو۔
پاکستان کو کیا ضرورت ہے؟
پاکستان میں کینسر کے مسئلے کے حل کے لیے صرف ہسپتال کافی نہیں ہیں۔
عوامی آگاہی میں اضافہ لوگوں کو ابتدائی مرحلے پر طبی مدد حاصل کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ کئی اقسام کے کینسر کے لیے اسکریننگ اور ابتدائی تشخیص علاج کے امکانات بہتر کرسکتی ہے۔
کینسر کے مراکز کو ماہر ڈاکٹر، جدید آلات، قابل اعتماد ادویات اور کم قیمت علاج کے اختیارات کی ضرورت ہے۔
مریضوں کے لیے مالی مدد بھی اتنی ہی اہم ہے کیونکہ اگر علاج موجود ہو لیکن مریض اس تک پہنچنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس علاج کی افادیت محدود ہوجاتی ہے۔
حکومتی ہسپتالوں، فلاحی اداروں اور نجی صحت کے اداروں سب کو کینسر کے مریضوں پر مالی بوجھ کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
تجزیہ
جوڈی فوسٹر کی کہانی اس لیے قابل ذکر ہے کہ ماہرین نے ایک مشکل کینسر کیس میں یہ تسلیم نہیں کیا کہ سانپ کے لیے کوئی راستہ موجود نہیں۔ انہوں نے ویٹرنری مہارت کو انسانی علاج سے حاصل ہونے والی تکنیک کے ساتھ ملایا اور ایسا نتیجہ حاصل کیا جو مستقبل میں دیگر جانوروں کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہوسکتا ہے۔
پاکستان کا کینسر کا مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے اور اس کا تعلق قومی سطح پر انسانی زندگیوں سے ہے۔
ملک میں 2022 کے دوران اندازاً 118,631 کینسر سے اموات ہوئیں، اس لیے کینسر کا علاج، ابتدائی تشخیص اور مالی رسائی صحت عامہ کی فوری ترجیحات ہونی چاہئیں۔
سب سے بڑا سبق جانوروں اور انسانوں میں انتخاب کرنا نہیں ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ جب طبی مہارت، تحقیق، وسائل اور عزم ایک جگہ جمع ہوجائیں تو علاج کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان کے لیے مقصد ایک ایسا صحت کا نظام ہونا چاہیے جہاں کینسر سے بچنے کے امکانات بنیادی طور پر طبی ضرورت اور مؤثر علاج سے طے ہوں، نہ کہ اس بات سے کہ مریض کے خاندان کے پاس کتنے پیسے ہیں۔
مزید پڑھیں 👇
ٹرمپ نے ’مکہ معاہدے‘ کی حمایت کیوں کی؟ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا نیا دفاعی اتحاد

Comments
Post a Comment